Jul 25
بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
کس کی رسموں کی جلتی ہُوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں
خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زےِرلب بھی نہیں
جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کو چُوڑیاں ڈال دیں
ہونٹ پیاسے رہے، حوصلے تھک گئے عُمر صحرا ہُوئی
ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں
موسِم ہجر کی کیسی ساعت ہے یہ دل بھی حیران ہے
میرے کانوں میں کس نے تری یاد کی ہالیاں ڈال دیں
Jul 25
خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہے
دِل نے کیوں سمجھوتہ کرنا سِیکھ لیا ہے
Jul 25
یہ میری عمر مرے ماہ وسال دے اُس کو
مِرے خدا مِرے دُکھ سے نکال دے اُس کو
وہ چُپ کھڑا ہے کئی دن سے تیری خاطر تو
کواڑکھول دے اذنِ سوال دے اُس کو
عذاب بد نظری کا جِسے شعور نہ ہو
یہ میری آنکھیں‘ مِرے خّدخال دے اُس کو
یہ دیکھنا شب ہجراں کہ کِس کی دستک ہے
وصال رُت ہے اگر وہ توٹال دے اُس کو
وہ جس کا حرفِ دُعا روشنی ہے میرے لیے
میں بُجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اُس کو
Jul 25
پُوچھ لو پُھول سے کیا کرتی ہے
کبھی خوشبو بھی وفا کرتی ہے
خیمئہ دل کے معتدّرکا یہاں
فیصلہ تیز ہَوا کرتی ہے
بے رُخی تیری،عنایت تیری
زخم دیتی ہے، دَوا کرتی ہے
تیری آہٹ مِری تنہائی کا
راستہ روک لیا کرتی ہے
روشنی تیرا حوالہ ٹھہرے
میری ہر سانس دُعا کرتی ہے
میری تنہائی سے خاموشی تری
شعر کہتی ہے، سُنا کرتی ہے
Jul 25
کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
اب تو قسمت سے ہی کوئی دریا ہار کرے گا
سارا شہر ہی تاریکی پرےُوں خاموش رہا تو
کون چراغ جلانے کے پیداآثار کرے گا
جب اُس کو کردار تُمھارے سچ کو زد میں آیا
لکھنے والا شہرِ کی کالی، ہر دیوار کرے گا
جانے کون سی دُھن میں تیرے شہر میں آنکلے ہیں
دل تجھ سے ملنے کی خواہش اب سوبار کرے گا
دِل میں تیرا اقیام تھا لیکن اُب یہ کِسے خبر تھی
دُکھ بھی اپنے ہونے پر اتِنا اصرار کرے گا
Jul 25
منفرو ساکوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
زندگی ایک نیا طر زِسخن چاہتی ہے
رُوح کے بے سرو سامانی سے باہر آکر
شاعری اپنے لیے ایک بدن چاہتی ہے
ہر طرف کتنے ہی پھُولو ں کی بھاریں ہیں یہاں
پرطبعت دُہی خوشبوےُ وطن چاہتی ہے
سانس لینے کو بس اِک تارُہ ہَوا کا جھونکا
زندگی وہ کہاں سرد دسمن چاہتی ہے
دُور جاکر در و دیوار کی رونق سے کہیں
ایک خاموش سا اُجڑا ہُوا بن چاہتی ہے
Jul 25
نہ گُفتگو کا کمال آہنگ
نہ بات کے بے مثال معنی
نہ خال وخد میں وہ جاذبیت
جو جسم و جاں کو اسیر کرلے
نہ مشرل کوئی عکس خواہش
مگر یہ کیا ہے
میں کس کے خاطر
وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں
مسافرت کی نئی کہانی [
Jul 25
مَیں بددُعا تو نہیں دے رہی ہُوں اُس کو مگر
دُعا یہی ہے اُسے مُجھ سا اب کوئی نہ مِلے
Jul 25
بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں
ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے
سارے درد چُھپالیتی ہیں
روتے روتے ہنس پڑتی ہیں
ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رولیتی ہیں
خوشی کی خواہش کرتے کرتے
خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں
سوحصّوں میں بٹ جاتی ہیں
گھر کے دروازے پر بیٹھی
اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں
میں جو گئے دنوں میں
ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی
اب خود بھی تو
عُمر کی گرتی دیواروں دے ٹیک لگا ئے
فصل خوشی کی بوتی ہوں
اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں
جانے کیسی رسم سے یہ بھی
ماں کیوں بیٹےی کو ورثے میں
اپنا مقدّر دے دیتی ہے
حالیہ تبصرے